بیادگار تاج العرفان حضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی فردوسیؒ و حضرت حکیم شاہ منصور احمد فردوسیؒ؞؞؞؞؞؞خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ کی مطبوعات کے آن لائن ایڈیشن کی اشاعت کا سلسلہ شروع ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ آئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞

اتوار، 5 اپریل، 2015

حضرت مولانا حکیم شاہ منصور احمد فردوسی

حضرت مولانا حکیم شاہ منصور احمد فردوسی ؒ
شاہ ہلال احمد قادری،
خانقاہ مجیبیہ ،پھلواری شریف

حضرت مولانا حکیم شاہ منصور احمد فردوسی ؒ سجادہ نشیں خانقاہ برہانیہ کمالیہ ،حضرت دیورہ کے سانحہ ارتحال کو ایک عرصہ بیت گیا لیکن موصوف نے اپنی شخصیت کا جواثر چھوڑا ہے وہ مخلصین کو ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا۔شاہ صاحب ضلع گیا کی ایک قدیم بستی’اوساس دیورہ کے صوفی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے،ممکن ہے ہندوستان کے مرکزی شہروں سے دور اور جنوبی بہار میں واقع اس چھوٹے سے قصبے کو بہت سے لوگ نہ جانتے ہوں لیکن ہندوستان کی بیشتر تاریخ ساز شخصیتیں ایسے ہی چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں کی خاک سے اٹھی ہیں اوراپنے کمالات علم وفن کی بدولت زمانے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔دیورہ ایک ایسی ہی قدیم بستی ہے،جہاں علم و معرفت کی ہمیشہ آبیاری ہوتی رہی ہے،بڑے بڑے باکمال یہاں پیدا ہوئے اور اس قصباتی فضاؤں میں پلے بڑھے، یہیں رہ کر انہوں نے علم کی اشاعت کی،تصوف کی تعلیمات کو عام کر کے لوگوں کی اصلاح قلوب کا فریضہ ادا کیا اور ہندوستان کے مرکزی شہروں میں علم کی خدمت کرنے کیلئے افراد تیار کیے۔
دسویں صدی ہجری میں جبکہ سرزمین ہند شیر شاہ سوری جیسے اولوالعزم بادشاہ کے زیر نگیں تھی،حضرت جلال الدین کبیر الاولیاء پانی پتی قدس سرہ کے خانوادے کے ایک بزرگ حضرت مخدوم برہان الدین اخوند میاں ؒ (المتوفی980ھ) سیر و سیاحت کرتے ہوئے تشریف لائے اور دیورہ میں اقامت اختیار فرمائی۔آپ کی آمد دیورہ کے لئے بڑی مبارک ثابت ہوئی۔آپ کی اولاد میں علماء ،فضلاء و صوفیا پیدا ہوتے رہے۔حضرت شاہ کمال علی دیوروی ؒ اس خانوادے میں آفتاب و ماہتاب تھے۔ان کی عظمت علمی و روحانی نے خانوادے میں چار چاند لگا ئے اور اس کی شہرت کو اوج کمال تک پہنچادیا۔
اس خانوادے کا نسبی تعلق حضرت امیر المومنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ہے۔نسبت روحانی حضرت سلطان المحققین مخدوم سید الشیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری قدس سے ہے،مخدوم شاہ برہان الدین خوند میاں اور شاہ کمال علی رحمہما اللہ کے تعلق سےدیورہ کی خانقاہ ،خانقاہ برہانیہ کمالیہ سے موسوم ہوئی۔
خاندان امیر عظاء اللہ جعفری زینبی پھلواروی سے اس خانوادے کے قریبی تعلقات رہے ہیں،وہ اس طرح کے شاہ غلام علی صاحب کی پوتی ملا فصیح الدین جعفری پھلواروی کے پوتے مولوی نصیر الدین سے بیاہی تھیں۔مولوی نصیر الدین صاحب کے صاحبزادے محمد امین تھے،مولانا شاہ محمد امین کی پوتی کی شادی مولانا شاہ محمد علی سملوی ؒ سے ہوئی،ان سے حضرت مولانا شاہ ابوالحسن شہید فردوسی تھے۔
شاہ کمال علی صاحب کے وصال کے بعد مسند سجادگی پر ان کی ماموں زاد ہمشیر کے پوتے مولانا شاہ انور علیؒ بیٹھے،کیونکہ شاہ کمال علی ؒ کو کوئی اولاد ذکور نہیں تھی۔مولانا شاہ انور علی ؒ شاہ محمد امین بن مولوی نصیر الدین بن ملا صبیح الدین بن ملا فصیح الدین پھلواروی کے صاحبزادے تھے۔شاہ انور علی صاحب کو کوئی اولاد نہیں تھی انہوں نے اپنی حیات میں حضرت شاہ ابو الحسن شہید ؒ کو خانقاہ برہانیہ کمالیہ کی سجادگی تفویض کردی۔اس طرح رشد و ہدایت کا سلسلہ دیورہ کی خانقاہ سے برابر جاری رہا اور مسند ارشاد پر ہر زمانے میں جامع علم و عرفان بزر گ متکمن ہوتے رہے۔حضرت مولانا شاہ ابو الحسن شہید ؒ اپنے زمانے کے ممتاز بزرگو ں میں تھے۔دیورہ اور سملہ کے لوگوں کو آپ کی نسبی اور روحانی دونوں نسبتیں حاصل ہیں۔آپ کی ذات دیورہ اور سملہ کی خانقاہ کا نقطۂ اتصال ہے۔سلسلہ فردوسیہ کے فیوض و برکات دونوں خانقاہوں میں آپ ہی کے واسطے سے پہنچے ہیں۔
حضرت شاہ ابوالحسن شہید ؒ کی شادی پھلواری شریف میں حضرت مولانا شاہ محمد ہادی بن سید العلماء مولانا سید احمدی قادری کی صاحبزادی بی بی وصیت النساء سے ہوئی تھی،ان سے آپ کے پانچ صاحبزادے ہوئے۔ مولانا شاہ مجیب الحق کمالی،مولانا شاہ فدا حسین،مولانا شاہ علی عظیم ،مولانا شاہ مظہر سعید ،مولانا شاہ عبد الحق رحمہم اللہ تعالیٰ۔
پھلواری خانقاہ سے اس قرابت قریبہ کی بنیاد پر ان دونوں خاندانوں میں گہرے تعلقات رہے اور آمد ورفت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔حضرت شاہ مجیب الحقؒ اورحضرت شاہ فدا حسین ؒ حضرت مخدوم جہاں ؒ کے عرس میں بہار شریف آتے تو اختتام عرس کے بعدپھلواری ضرور تشریف لاتے اور موئے مبارک ﷺ کی زیارت کرکے واپس ہوتے۔حضرت اقدس فیاض المسلمین مولانا سید شاہ بدرالدین قادری قدس سرہ اس رشتے کا بہت خیال رکھتے تھے،کیونکہ حضرت شاہ ابوالحسن شہیدؒ آپ کے پھوپھا تھے۔مولانا حکیم شاہ ابراہیم فردوسی ؒ ،شاہ فدا حسین ؒ کے چھوٹے صاحبزادے تھے،حضرت شاہ فدا حسین ؒ خانقاہ برہانیہ کمالیہ کے صاحب سجادہ تھے۔آپ کے انتقال کے بعدجناب حکیم شاہ ابراہیم فردوسی ؒ جانشیں ہوئے۔
جناب شاہ منصور احمد فردوسی ،اپنے والد حضرت شاہ ابراہیم فردوسی ؒ کے مرید و مسترشد اور خلیفہ و مجاز تھے۔ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی پھر کچھ دنوں مدرسہ قاسمیہ گیا میں بھی پڑھا۔حصول علم کے ذوق نے آپ کو جامعہ نعیمیہ مراد آبادپہنچایا۔جامعہ نعیمیہ سے ہی فارغ التحصیل ہوئے،آپ کے والد ایک اچھے طبیب بھی تھے،اس لئے فن طب کی تحصیل کا خیال بھی پیدا ہوا۔پٹنہ بہ نسبت لکھنؤ اور دہلی کے زیادہ قریب تھا،اس لئے طبیہ کالج پٹنہ میں داخلہ لیا اور پٹنہ میں اپنی تعلیم پوری کی اور طبیہ کالج سے طبابت کی سند لی۔
شاہ صاحب علیہ الرحمۃ طبقۂ مشائخ سے تعلق رکھتے تھے،انہوں نے ایک ایسے مکتبۂ فکر سے تعلیم حاصل کی تھی جو مسلکی تعصب و تشدد میں مشہور ہے ،لیکن ان پر تصوف کا رنگ غالب تھا،طبیعت میں سلامت روی اور مسلک میں اعتدال پایا جاتا تھا۔خاندان میں مقبول و محبوب تھے لوگ ان کی نسبت سجادگی سے زیادہ ان کے اوصاف حسنہ اور اخلاق فاضلہ کی بنا پر ان کا احترام کرتے تھے۔سملہ عرس میں جب بھی خاکسار کا جانا ہوتا تھا شاہ صاحب سے ملاقات ہوتی بڑی محبت سے پیش آتے، ہمدردی اور محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔سب کا درد محسوس کرتے اور لوگوں کی فکر سے فکر مند ہوتے تھے،خاکسار سے ان کا رشتہ خوردی و بزرگی والا تھا،خاکسار کی نانی صاحبہ بی بی فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا اسی خانوادہ کی تھیں اور حضرت شاہ ابو الحسن شہید ؒ کے بڑے بھائی کی پوتی اور ان کی حقیقی نواسی تھیں، اسی لیے شاہ منصور صاحب کی پھوپھی ہوئیں،اس رشتہ سے خاکسار ان کو ماموں کہتا تھا، اور وہ بھی بہت شفقت سے پیش آتے اور اپنی سادہ مزاجی کی وجہ سے بے تکلفی سے گفتگو فرماتے۔ اکثر بہار شریف میں عرس مخدوم جہاں ؒ کے موقع پر ملاقات ہوتی تو سب لوگوں کی خیریت پوچھتے،برادری کے انہی حقوق کی بنا پر فرماتے کہ’’ دیورہ آؤ، تم لوگ نہیں آتے ہو‘‘افسوس کہ ان کی حیات کا سفر تمام ہوا ،لیکن دیورہ جانے کی توفیق نہ ہو سکی۔
بڑے عالی ظرف تھے، ان کی مندگی کا ایک دور بہت ہی سخت گذرا جو با لعموم ایسے نیک طینت اور پاک باطن مشائخ پر گزرتا ہے لیکن زبان سے اف نہیں کیا، اپنی اسی درویشانہ زندگی پر قانع رہے، گفتگو میں کبھی حالات کی نا مساعدت اور زمانے کی نیرنگی کی شکایت نہیں کرتے تھے، ان کی کسی بات سے اندازہ مہیں ہوتا تھا کہ ان کی زندگی تنگی و ترشی کے ساتھ گزر رہی ہے۔
انسان کی زندگی میں حوادث آتے رہتے ہیں اور ان ہی حوادث اور مصائب پر صبر کرکے وہ ابتلا اور آز مائش میں پورا اترتا ہے،جناب شاہ صاحب کی زندگی میں مشکلات زیادہ تھیں آسانیاں کم۔لیکن ان کے داماد کے انتقال کا حاد ثہ بڑا سخت تھا، اس کا ان پر بہت اثر ہوا،نواسے نواسیوں کی پرورش کی ذمہ داریوں نے ان کی صحت کو سخت متاثر کیا،لیکن اس کے باوجود انہوں نے جس صبر جمیل کا مظاہرہ کیا وہ ان ہی کا کام تھا، کم سخن اور خاموش طبیعت کے آدمی تھے اور اختلاف و نزع سے دور رہتے تھے۔ 
اخلاقی خوبیوں کے ساتھ علمی فضیلت سے بھی ان کی شخصیت مزین تھی، جہاں تک مجھے معلوم ہے فارغ التحصیل ہونے کے بعددرس و تدریس کا سلسلہ نہیں رکھا لیکن ان کا علم ہمیشہ تازہ رہا ،کیونکہ مطالعہ و کتب بینی تا حیات نہیں چھوڑا ۔ جب جب ان کی علمی گفتگو سننے کا اتفاق ہوا، اندازہ ہوا کہ مطالعہ عمیق اور معلومات وسیع ہیں،راقم الحروف سے بہت محبت کرتے تھے اس لیے راقم ان سے شوخ بھی تھا۔ اور کبھی علمی گفتگو میں ایک فریق بن کر ہلکی پھلکی بحث بھی کر لیتا تھا۔انہوں نے کبھی اس کا برا نہیں مانا بلکہ خوش ہوتے تھے۔فقہی موضوع ہو یا تاریخی، مسلک و مشرب کی باتیں ہوں یا شعر و ادب کی، ہر موضوع پر اچھی گفتگو کرتے تھے۔
ان کی کوئی تحریر میری نظر سے نہیں گزری،لیکن علمی ذوق مسلم تھا،کسی نئی کتاب پر مطالعہ کے بعد جو رائے دیتے وہ قیمتی اور صائب ہوتی تھی، ان کے چھوٹے بھائی شاہ انور علی عثمانی نے انوار کمال مرتب کی تو اس میں ان کی رہنمائی شامل رہی،اپنے اسی علمی ذوق کی بدولت دیورہ میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کرنے کیلئے ایک ادارہ ’’انوار البرہان ‘‘قائم کیا۔دیورہ میں ایک مدرسہ بھی ان کے زیر سرپرستی چل رہا تھا،جو بحمد اللہ اب تک قائم ہے۔فن طب میں بھی دستگاہ رکھتے تھے،امراض و علاج کے سلسلہ میں لوگ ان سے مشورے کرتے تھے۔ا ن کے علاج سے لوگوں کو بہت فائدے پہنچے۔
علامہ اقبال نے اپنے زمانے کا رنگ دیکھ کر کہا تھا 

خدا وندا!یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے ،سلطانی بھی عیاری

یہ ایک المیہ ہے کہ مکر و فریب کے دام ہم رنگ زمین سے مشائخ اور صوفیں کا طبقہ بھی محفوظ نہیں رہا،پیری و مریدی کو ایک پیشے کی حیثیت دے دی گئی ہے، طالبان حق تلاش حق میں سرگرداں ہیں اور مظلوم داد فریاد کے لئے حکمرانوں سے مایوس ہو چکا ہے، عدل و انصاف کی باتیں کتاب رہ گئی ہیں ۔صوفیوں کے اخلاص ، ہمدردی ،ایثار اور خدمت خلق کی باتیں قصۂ ماضی بن چکی ہیں 

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی نہ محبت نہ معرفت نہ نگاہ

ایسے دور ظلمت میں چند اللہ والے رہ گئے ہیں، جنہوں نے تصوف کی آبرو بچا رکھی ہے اور یہ بڑی بات ہے۔حضرت مولانا شاہ منصور احمد فردوسی ان ہی مشائخ کی صف میں تھے، انہوں نے مشیخت کے وقار اور تصوف کے معیار کو قائم رکھا، اپنے مریدوں کی تربیت اور اصلاح کی طرف ہمیشہ متوجہ رہے اور حضرت مخدوم جہاں ؒ کے روحانی سلسلے کو اور اس کی تعلیمات کو پھیلانے کی کوشش جاری رکھی۔ 
افسوس ان کی عمر نے وفا نہ کی، ابھی ان کے جانے کی عمر نہ تھی، لیکن وقت موعود آچکا تھا،جس طرح خاموشی اور صبر و قناعت کے ساتھ زندگی گزاری،اسی طرح خاموشی اور صبع و قناعت کے ساتھ زندگی گزاری اسی طرح خاموشی کے ساتھ عالم بقا کی طرف روانہ ہو گئے۔فجر کی نماز پڑھ کر لیٹے اور بڑے ہی سکون و اطمنان کے ساتھ جان جان آفریں کے سپرد کردی

سبک بار مردم سبک تر ردند
اعلی اللہ مقامہ و تعذہ بفقرانہ

حادثہ رحلت 8 رمضان المبارک1415ھ جمعرات کو صبح کے وقت پیش آیا۔تدفین دوسرے دن بعد نماز جمعہ ہوئی،دیورہ کے اس قبرستان میں مدفون ہوئے جہاں ان کے اکابر آرام فرما ہیں۔

آسماں ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرے

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں